السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الكافر يسلم فيغتسل باب: کافر کے اسلام لانے پر غسل کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَأَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، أنا عُبَيْدُ اللهِ، وَعَبْدُ اللهِ ابْنَا عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ ثُمَامَةَ الْحَنَفِيَّ أُسِرَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْدُو إِلَيْهِ فَيَقُولُ: " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ " فَيَقُولُ: إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَمُنَّ تَمُنَّ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تُرِدِ الْمَالَ نُعْطِكَ مِنْهُ مَا شِئْتَ وَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّونَ الْفِدَاءَ، وَيَقُولُونَ: مَا نَصْنَعُ بِقَتْلِ هَذَا فَمَرَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَسْلَمَ فَحَلَّهُ، وَبَعَثَ بِهِ إِلَى حَائِطِ أَبِي طَلْحَةَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ حَسُنَ إِسْلَامُ أَخِيكُمْ ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ثمامہ حنفی قید کیا گیا، نبی ﷺ اس کے پاس جاتے تو فرماتے: ”اے ثمامہ! تیرے پاس کیا ہے؟“ وہ کہتا: اگر آپ قتل کریں گے تو خون والے (یعنی اس کے قبیلے والے) قتل کریں گے اور آپ احسان کریں گے تو شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال کا ارادہ رکھتے ہیں تو جو چاہیں گے وہی ہم دیں گے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فدیہ کو پسند کرتے تھے اور کہتے تھے: ہم اس کو قتل کر کے کیا کریں گے۔ نبی ﷺ ایک دن اس کے پاس سے گزرے تو وہ مسلمان ہو گیا، آپ ﷺ نے اس کو کھول دیا اور ابوطلحہ کے باغ کی طرف بھیجا اور اس کو حکم دیا کہ غسل کرے، اس نے غسل کیا اور دو رکعت نماز ادا کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بھائی کا اسلام بہترین ہے۔“