حدیث نمبر: 8044
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكْتُ، قَالَ: " وَمَا ذَاكَ؟ " قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَجِدُ رَقَبَةً؟ " قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا أَجِدُهُ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، قَالَ: " اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهَذَا "، فَقَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: " اذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِكَ " قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا رُخْصَةً لِلرَّجُلِ وَحْدَهُ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ الْيَوْمَ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا أَنْ يُكَفِّرَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ مَعْمَرٍ وَبِمَعْنَى هَؤُلَاءِ رَوَاهُ أَكْثَرُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَعُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ وَغَيْرُهُمَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا اور گویا ہوا کہ میں ہلاک ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیسے؟“ تو اس نے کہا: میں رمضان میں بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو غلام پاتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو متواتر دو مہینے روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں تو نبی کریم ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لے جا کر صدقہ کر دے۔“ اس نے کہا: اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ہم سے زیادہ محتاج ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ مسکرا دیے، پھر فرمایا: ”اسے اپنے اہل و عیال کے پاس لے جا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8044
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»