السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من أصبح يوم الشك لا ينوي الصوم، ثم علم أنه من شهر رمضان أمسك بقية يومه استدلالا بما باب: اس شخص کا بیان جس نے یومِ شک کو روزے کی نیت کے بغیر صبح کی، پھر اسے معلوم ہوا کہ یہ تو ماہِ رمضان کا دن ہے، تو اس نے دن کے بقیہ حصے میں خود کو روکے رکھا، اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 8035
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ إِلَى قَوْمِهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " مُرْهُمْ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَرَانِي آتِيهِمْ حَتَّى يَطْعَمُوا، قَالَ: " مَنْ طَعِمَ مِنْهُمْ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يَزِيدَ وَقَدْ رُوِيَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ أَمَرَ بِالْقَضَاءِ، وَذَلِكَ فِيمَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص کو یومِ عاشور کے دن ان کی قوم کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”انہیں حکم دو کہ وہ اس دن کا روزہ رکھیں۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیں اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ان میں سے کھا لیا ہو، وہ بقیہ دن روزہ رکھے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے کہ اس صورت میں اسے قضا کا حکم دیا۔