السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من أصبح جنبا في شهر رمضان باب: اس شخص کا بیان جس نے ماہِ رمضان میں جنابت کی حالت میں صبح کی۔
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: " رَجَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ قَوْلِهِ رُجُوعًا حَسَنًا، يَعْنِي فِي الْجُنُبِ إِذَا أَصْبَحَ وَلَمْ يَغْتَسِلْ "، وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْذِرِ أَنَّهُ قَالَ: أَحْسَنَ مَا سَمِعْتُ فِي هَذَا أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ مَحْمُولًا عَلَى النَّسْخِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْجِمَاعَ كَانَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ مُحَرَّمًا عَلَى الصَّائِمِ فِي اللَّيْلِ بَعْدَ النَّوْمِ كَالطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، فَلَمَّا أَبَاحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجِمَاعَ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ جَازَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَصْبَحَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ أَنْ يَصُومَ ذَلِكَ الْيَوْمَ لِارْتِفَاعِ الْحَظْرِ، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُفْتِي بِمَا سَمِعَهُ مِنَ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَلَى الْأَمْرِ الْأَوَّلِ، وَلَمْ يَعْلَمْ بِالنَّسْخِ، فَلَمَّا سَمِعَ خَبَرَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ صَارَ إِلَيْهِ.عمر بن قیس مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطاء رحمہ اللہ نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جنبی کے بارے میں بہت اچھا رجوع کیا کہ جب وہ اس حالت میں صبح کرتے اور غسل نہ کرتے۔
ابوبکر بن منذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سلسلے میں سب سے اچھی بات وہ ہے جو میں نے سنی ہے کہ یہ نسخ پر محمول ہے۔ دراصل ابتدائے اسلام میں سو جانے کے بعد کھانے پینے کی طرح جماع بھی حرام تھا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے جماع کو طلوعِ فجر تک جائز قرار دیا تو جنبی کے لیے یہ بھی جائز ہو گیا کہ وہ اس دن غسل کرنے سے پہلے روزہ رکھ لے، اس لیے کہ ممنوعیت ختم ہو گئی تھی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسی کے مطابق فتویٰ دیتے تھے جو انہوں نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا تھا اور انہیں منسوخ ہونے کا علم نہ تھا، پھر جب انہوں نے عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی حدیث سنی تو اس کی طرف رجوع کر لیا۔