السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: المذي والودي لا يوجبان الغسل باب: مذی اور ودی سے غسل واجب نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 799
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ ذُكِرَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَفْعَلْ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا نَضَحْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بہت زیادہ مذی آتی تھی، میں غسل کرتا تھا یہاں تک کہ میری کمر میں زخم ہو گیا۔ راوی کہتا ہے: میں نے یہ بات نبی ﷺ سے ذکر کی یا آپ ﷺ سے ذکر کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ایسے نہ کر جب تو مذی کو دیکھے تو اپنی شرم گاہ کو دھو اور نماز جیسا وضو کر اور جب تو زور سے پانی بہائے (یعنی منی خارج ہو) تو غسل کر۔“