حدیث نمبر: 798
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّيْرَعَاقُولِيُّ، نا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدَ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حَبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً كَادَ يُصْرَعُ مِنْهَا، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: لِمَ دَفَعْتَنِي؟ فَقُلْتُ: أَلَا تَقُولُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: الْيَهُودِيُّ إِنَّمَا نَدْعُوهُ بِاسْمِهِ الَّذِي سَمَّاهُ بِهِ أَهْلُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا اسْمِي الَّذِي سَمَّانِي بِهِ أَهْلِي مُحَمَّدٌ "، قَالَ الْيَهُودِيُّ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَنْفَعُكَ شَيْءٌ إِنْ حَدَّثْتُكَ "، قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنِي، فَنَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: " سَلْ " فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ ⦗٢٦٢⦘ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُمْ فِي الظُّلْمَةِ دُونَ الْجِسْرِ "، قَالَ: فَمَنْ أَوَّلُ النَّاسِ إِجَازَةً؟ قَالَ: " فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ " قَالَ الْيَهُودِيُّ: فَمَا تُحْفَتُهُمْ حِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: " زِيَادَةُ كَبِدِ النُّونِ " قَالَ: فَمَا غِذَاؤُهُمْ عَلَى إِثْرِهَا؟ قَالَ: " يُنْحَرُ لَهُمْ ثَوْرُ الْجَنَّةِ الَّذِي كَانَ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِهَا "، قَالَ: فَمَا شَرَابُهُمْ عَلَيْهِ؟ قَالَ: " مِنْ عَيْنٍ فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا " فَقَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: وَجِئْتُ أَسْأَلُكَ، عَنْ شَيْءٍ لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ رَجُلٌ أَوْ رَجُلَانِ، قَالَ: " أَيَنْفَعُكَ إِنْ حَدَّثْتُكَ " قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنِي، قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْوَلَدِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاءُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ، فَإِذَا عَلَا مَنِيُّ الرَّجُلِ مَنِيَّ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَا بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى، وَإِذَا عَلَا مَنِيُّ الْمَرْأَةِ مَنِيَّ الرَّجُلِ آنَثَا بِإِذْنِ اللهِ " فَقَالَ: صَدَقْتَ، وَإِنَّكَ لِنَبِيٌّ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ سَأَلَنِي هَذَا عَنِ الَّذِي سَأَلَنِي عَنْهُ وَمَا لِي بِشَيْءٍ مِنْهُ عَلِمٌ حَتَّى آتَانِي اللهُ بِهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيِّ، عَنْ أَبِي تَوْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

رسول اللہ ﷺ کے غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کھڑا تھا، ایک یہودی عالم آیا اور کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ» ”السلام علیکم یا محمد!“ راوی کہتا ہے کہ میں نے اس کو زور سے ہٹایا، قریب تھا کہ وہ گر جاتا۔ یہودی نے کہا: تو نے مجھے کیوں ہٹایا ہے؟ میں نے کہا: تو یا رسول اللہ کیوں نہیں کہتا؟ یہودی نے کہا: ہم اس کو اسی نام سے پکاریں گے جو نام ان کے گھر والوں نے رکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے گھر والوں نے جو میرا نام رکھا ہے وہ محمد ﷺ ہے۔“ یہودی نے کہا: میں آپ سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کرنے آیا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں تجھ کو کوئی بات بتاؤں تو تجھ کو فائدہ دے گی؟“ اس نے کہا: میں اپنے کانوں سے سنوں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے لکڑی کے ساتھ کریدا جو آپ ﷺ کے پاس تھی، پھر فرمایا: ”سوال کر۔“ یہودی نے کہا: لوگ (اس وقت) کہاں ہوں گے ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ﴾ [سورة إبراهيم: 48] جب زمین و آسمان بدل دیے جائیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پل صراط کے علاوہ اندھیرے میں ہوں گے۔“ اس نے کہا: کن لوگوں کو سب سے پہلے (جنت جانے کی) اجازت دی جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فقیر مہاجرین کو۔“ یہودی نے کہا: جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کا تحفہ کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مچھلی کے جگر سے مہمان نوازی۔“ اس نے کہا: اس کے بعد ان کی غذا کیا ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے لیے جنت کا بیل ذبح کیا جائے گا جو اس جنت کے مختلف حصوں میں کھاتا پیتا ہے۔“ اس نے کہا: ان کا پینا کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک چشمہ جس کا نام «سَلْسَبِيل» ”سلسبیل“ ہوگا۔“ اس نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ پھر اس نے کہا: اور میں آپ سے ایسی چیز کے متعلق سوال کرنے آیا ہوں جس کو اہل زمین میں سے کوئی نہیں جانتا، مگر نبی یا ایک یا دو آدمی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر آپ کو کوئی بات بتاؤں کیا آپ کو وہ فائدہ دے گی؟“ اس نے کہا: میں اپنے کانوں سے سنوں گا اور کہا: میں آپ سے بچے کے متعلق سوال کرنے کے لیے آیا ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کا پانی سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد ہوتا ہے، جب آدمی کی منی عورت کی منی پر غالب آجاتی ہے تو دونوں اللہ کے حکم سے لڑکا پیدا کرتے ہیں اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آجاتی ہے تو اللہ کے حکم سے لڑکی پیدا ہوتی ہے۔“ اس نے کہا: آپ نے سچ کہا، بیشک آپ سچے نبی ہیں، پھر وہ واپس چلا گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”البتہ جن چیزوں کے متعلق اس نے مجھ سے سوال کیا میرے پاس اس کا کوئی علم نہیں تھا، پھر اللہ نے مجھے ان کا علم دے دیا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 798
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم 3315»