السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الهلال يرى بالنهار باب: چاند دن کے وقت دیکھا جائے اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ نَهَارًا قَبْلَ أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ لِتَمَامِ ثَلَاثِينَ فَأَفْطِرُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ بَعْدَمَا تَزُولُ الشَّمْسُ فَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَصُومُوا " هَكَذَا رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ مُنْقَطِعًا، وَحَدِيثُ أَبِي وَائِلٍ أَصَحُّ مِنْ ذَلِكَ.شباک، ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن فرقد کی طرف خط لکھا کہ ”جب تم دن میں چاند دیکھو، سورج ڈھلنے سے پہلے تیس دن پورے ہونے پر تو روزہ افطار کر دو اور جب تم سورج ڈھلنے کے بعد چاند دیکھو تو پھر افطار نہ کرو اور روزے سے رہو۔“
ہمیں ابو زکریا بن ابی اسحاق اور ابو بکر بن حسن قاضی نے خبر دی، ان دونوں نے کہا: ہمیں ابو العباس محمد بن یعقوب نے حدیث بیان کی، ہمیں بحر بن نصر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ابن وہب کے سامنے یہ پڑھا گیا کہ تمہیں یونس بن یزید نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ کچھ لوگوں نے دن کے وقت عید الفطر کا چاند دیکھا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رات تک اپنا روزہ پورا کیا اور فرمایا: «لَا حَتَّى يُرَى مِنْ حَيْثُ يُرَى بِاللَّيْلِ» ”نہیں، یہاں تک کہ وہ وہیں سے دیکھا جائے جہاں سے رات کو دیکھا جاتا ہے۔“