السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الهلال يرى بالنهار باب: چاند دن کے وقت دیکھا جائے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 7985
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ نَهَارًا قَبْلَ أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ لِتَمَامِ ثَلَاثِينَ فَأَفْطِرُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ بَعْدَمَا تَزُولُ الشَّمْسُ فَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَصُومُوا " هَكَذَا رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ مُنْقَطِعًا، وَحَدِيثُ أَبِي وَائِلٍ أَصَحُّ مِنْ ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
شباک، ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن فرقد کی طرف خط لکھا کہ ”جب تم دن میں چاند دیکھو، سورج ڈھلنے سے پہلے تیس دن پورے ہونے پر تو روزہ افطار کر دو اور جب تم سورج ڈھلنے کے بعد چاند دیکھو تو پھر افطار نہ کرو اور روزے سے رہو۔“
ابراہیم نخعی نے اسے اسی طرح منقطع روایت کیا ہے اور ابو وائل کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے۔