حدیث نمبر: 7976
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارٍيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي هِلَالِ رَمَضَانَ مَرَّةً، فَأَرَادُوا أَنْ لَا يَقُومُوا وَلَا يَصُومُوا، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنَ الْحَرَّةِ فَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلَالَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ " قَالَ: نَعَمْ، وَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلَالَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ يَقُومُوا وَأَنْ يَصُومُوا قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِيَامَ أَحَدٌ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ الشَّيْخُ: حَدِيثُ حَمَّادٍ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُوسَى عَنْ حَمَّادٍ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ

سماک عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان کے چاند میں شک ہوا تو انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ قیام نہیں کریں گے اور روزہ بھی نہیں رکھیں گے، تو ایک دیہاتی حرہ سے آیا اور آکر گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے، تو اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اقرار کرتا ہے کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ اور «أَنِّي رَسُولُ اللهِ» ”میں اللہ کا رسول ہوں“؟“ اس نے کہا: ہاں، اور اس نے اقرار کیا کہ اس نے چاند دیکھا ہے، تو آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اعلان کیا کہ لوگ قیام کریں اور روزہ رکھیں۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد ]

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7976