السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من رخص من الصحابة في صوم يوم الشك باب: ان صحابہ کرام کا بیان جنھوں نے یومِ شک کا روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ فِنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ بِالدَّامِغَانِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَنْبَةَ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي الْحَضْرَمِيَّ، ثنا عُثْمَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ ضُرَيْسٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّهَا كَانَتْ تَصُومُ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ.سیدہ فاطمہ بنت منذر رحمہا اللہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ وہ رمضان میں شک کے دن کا روزہ رکھا کرتی تھیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شعبان کے مہینے میں شک کا روزہ رکھوں یہ میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے کہ میں رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دوں، اس لیے کہ اس سے مراد ایامِ بیض کے روزے ہیں۔ لیکن جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے تو انہوں نے یہ بات آدمی کے چاند دیکھنے کی گواہی پر کہی ہے اور یزید بن ہارون کی روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مذہب کے بارے میں ہے۔ جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا روزے میں مذہب ہے کہ جب بادل چھا جائیں اور مطلع صاف نہ ہو تو یہ سنت ثابتہ کی اتباع ہے جس پر اکثر صحابہ اور عوام ہیں اور اہل علم بھی۔