السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الخبر الذي ورد في صوم سرر شعبان باب: شعبان کے آخری دنوں (سرر) کے روزے کے متعلق جو حدیث وارد ہوئی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ مِنْ كِتَابِهِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ الْمُغِيرَةِ بْنِ فَرْوَةَ، قَالَ: قَامَ مُعَاوِيَةُ فِي النَّاسِ بِدَيْرِ مِسْحَلٍ الَّذِي عَلَى بَابِ حِمْصٍ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّا قَدْ رَأَيْنَا الْهِلَالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَأَنَا مُتَقَدِّمٌ بِالصِّيَامِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَفْعَلَهُ فَلْيَفْعَلْهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ مَالِكُ بْنُ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيُّ فَقَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ، أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ شَيْءٌ مِنْ رَأْيِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صُومُوا الشَّهْرَ وَسِرَّهُ " أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ الْوَلِيدُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: سِرُّهُ أَوَّلُهُ. قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ قَالَ: كَانَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ: سِرُّهُ أَوَّلُهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَرُّهُ آخِرُهُ، وَهُوَ الصَّحِيحُ، وَأَرَادَ بِهِ الْيَوْمَ أَوِ الْيَوْمَيْنِ اللَّذَيْنِ يَسْتَتِرُ فِيهِمَا الْقَمَرُ قَبْلَ يَوْمِ الشَّكِّ، أَوْ أَرَادَ بِهِ صِيَامَ آخِرِ الشَّهْرِ مَعَ يَوْمِ الشَّكِّ، إِذَا وَافَقَ ذَلِكَ عَادَتَهُ فِي صَوْمِ آخِرِ كُلِّ شَهْرٍ وَقِيلَ أَرَادَ بِسِرِّهِ وَسَطَهُ وَسِرُّ كُلِّ شَيْءٍ جَوْفُهُ، فَعَلَى هَذَا أَرَادَ أَيَّامَ الْبِيضِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”اس مہینے کے روزے رکھو اور آخری دن میں بھی۔“
ولید کہتے ہیں: میں نے ابو عمرو یعنی اوزاعی رحمہ اللہ کو کہتے سنا: اس کے سِرّ سے مراد اس کا ابتدائی حصہ ہے۔ اور سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی کہا کرتے تھے کہ اس کا سِرّ اس کا ابتدائی حصہ ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: دوسروں نے اوزاعی سے روایت کیا ہے کہ اس کا سِرّ اس کا آخری حصہ ہے، اور یہی صحیح ہے۔ اس سے مراد وہ ایک یا دو دن ہیں جن میں شک کے دن سے پہلے چاند چھپا رہتا ہے، یا اس سے مراد شک کے دن سمیت مہینے کے آخر کا روزہ ہے جب یہ ہر مہینے کے آخر میں روزہ رکھنے کی اس کی عادت کے موافق ہو۔ اور کہا گیا ہے کہ سِرّ سے مراد اس کا درمیانی حصہ ہے، کیونکہ ہر چیز کا سِرّ اس کا اندرونی حصہ ہوتا ہے، اس بنا پر اس سے مراد ایامِ بیض ہیں۔ واللہ اعلم۔