السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الخبر الذي ورد في صوم سرر شعبان باب: شعبان کے آخری دنوں (سرر) کے روزے کے متعلق جو حدیث وارد ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 7967
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ: " صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ مَكَانَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَهْدِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا یا کسی آدمی سے فرمایا اور وہ سن رہے تھے: ”کیا تو نے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا؟“ تو اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو روزہ افطار کرے گا تو اس کے عوض دو روزے رکھ لینا۔“