السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الرخصة في ذلك بما هو أصح من حديث العلاء باب: علاء کی حدیث کی نسبت زیادہ صحیح روایات کے ذریعے اس معاملے (شعبان کے نصف کے بعد روزے) میں رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7964
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا إِلَّا شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ وَرَوَاهُ أَبُو النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ "، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا " وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سال میں سے کسی مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے سوائے شعبان کے۔ سو آپ تمام شعبان کے روزے رکھتے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے آپ ﷺ کو کسی مہینے میں زیادہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے شعبان کے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ پورا شعبان روزے رکھتے تھے، یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ شعبان کے کم روزے چھوڑتے بلکہ تمام شعبان کے روزے رکھتے۔