❮
❯
حدیث نمبر: 7951
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ هَذَا مِنْ شَعْبَانَ، وَبَعْضُهُمْ هَذَا مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوَا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوَا الْهِلَالَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ ".
حافظ ثناء اللہ

قیس بن طلق رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سنا جو نبی کریم ﷺ سے شک والے دن کے بارے میں سوال کر رہا تھا کہ بعض ان میں سے کہتے ہیں کہ شعبان ہے اور بعض کہتے ہیں رمضان ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم روزہ نہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھ لو اور افطار نہ کرو جب تک چاند نہ دیکھ لو، اور اگر تم پر بادل چھا جائیں تو پھر تیس کی گنتی پوری کرو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7951
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»