السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الرجل يسأل سلطانا أو في أمر لا بد منه صالحا باب: آدمی کا کسی حکمران سے یا کسی ایسے نیک کام میں سوال کرنا جو ناگزیر ہو۔
حدیث نمبر: 7876
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ فِي أَمْرٍ لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا أَوْ ذَا سُلْطَانٍ، قَالَ زَيْدُ بْنُ عُقْبَةَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ فَقَالَ: سَلْنِي فَإِنِّي ذُو سُلْطَانٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مانگنا چھیلنا ہے جس کے ساتھ انسان اپنے چہرے کو چھیلتا ہے، جو اپنے چہرے کو باقی رکھنا چاہے رکھ لے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے، مگر انسان اسی چیز کے بارے میں سوال کرے جس کے بغیر چارہ نہیں یا پھر سلطانِ وقت سے۔“
زید بن عقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بات میں نے حجاج بن یوسف کے سامنے کہی تو انہوں نے کہا: تو مجھ سے مانگ میں سلطنت والا ہوں۔