السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: المملوك يتصدق بالشيء اليسير من مال مولاه باب: غلام کا اپنے آقا کے مال میں سے تھوڑی سی چیز کا صدقہ کرنا۔
حدیث نمبر: 7863
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ: " لَا يَصْلُحُ لِلْعَبْدِ أَنْ يُنْفِقَ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا، وَلَا يُعْطِيهِ أَحَدًا إِلَّا بِإِذْنِ سَيِّدِهِ إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ فِيهِ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يَكْتَسِيَ " ⦗٣٢٧⦘ وَالْحَدِيثُ الْمُسْنَدُ يَحْتَمِلُ عَلَى الْبُعْدِ أَنْ يَكُونَ قَصَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْغِيبَ الْمَالِكِ فِي أَنْ يَأْذَنَ لِمَمْلُوكِهِ فِي أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْهُ، وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا، وَمَا يَدُلُّ عَلَيْهِ ظَاهِرُهُ مِنَ الْإِبَاحَةِ أَوْلَى بِمَنْ رَغِبَ فِي مُتَابَعَةِ السُّنَّةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ ”غلام کے لیے درست نہیں کہ وہ اس کے مال میں سے کچھ خرچ کرے اور نہ یہ کہ اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو دے، مگر معروف طریقے سے کھائے یا پہنے۔“
(اس حدیث کا محمول کرنا بعید ہے۔ شاید آپ ﷺ کا مقصد مالک کو ترغیب دلانا ہو کہ وہ غلام کو صدقے کی اجازت دے اور اجر میں دونوں برابر ہوں، اس کا ظاہر ترغیب پر دلالت کرتا ہے)۔