السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: المملوك يتصدق بالشيء اليسير من مال مولاه باب: غلام کا اپنے آقا کے مال میں سے تھوڑی سی چیز کا صدقہ کرنا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِيُّ، قَالُوا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: سُئِلَ عَنِ الْمَمْلُوكِ يَتَصَدَّقُ بِشَيْءٍ، فَقَالَ: " {ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ} [النحل: ٧٥] لَا يَتَصَدَّقُ بِشَيْءٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي إِبِلٍ رَاعِيَةٍ فَيَأْتِيَهُ رَجُلٌ قَدِ انْقَطَعَ حَلْقُهُ مِنَ الْعَطَشِ يَخْشَى إِنْ لَمْ يَسْقِهِ أَنْ يَمُوتَ فَإِنَّهُ يَسْقِيهِ ".عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے غلام کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کوئی چیز صدقہ کرسکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ﴿ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ﴾ [سورة النحل: 75] کہ وہ کسی چیز کا صدقہ نہیں کرسکتا، مگر یہ کہ وہ اونٹوں کا چرواہا ہو اور اس کے پاس آدمی آئے جس کا حلق پیاس کی وجہ سے خشک ہوچکا ہے اور وہ ڈرتا ہے کہ اگر پانی نہ پلایا گیا تو وہ فوت ہوجائے گا، تو پھر وہ اسے پلادے۔
فرماتے ہیں: اسے انصاری نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ ان سے غلام کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ صدقہ کرسکتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: کچھ بھی صدقہ نہیں کرسکتا۔