السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: المملوك يتصدق بالشيء اليسير من مال مولاه باب: غلام کا اپنے آقا کے مال میں سے تھوڑی سی چیز کا صدقہ کرنا۔
حدیث نمبر: 7860
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَرَضَ عَلَيَّ سَيِّدِي كُلَّ يَوْمٍ دِرْهَمًا، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ: " اتَّقِ اللهَ وَأَدِّ حَقَّ اللهَ عَلَيْكَ وَحَقَّ مَوَالِيكَ، فَإِنَّكَ لَا تَمْلِكُ مِنْ مَالِكَ وَلَا مِنْ دَمِكَ إِلَّا أَنْ تَضَعَ يَدَكَ، أَوْ تُطْعِمَ مِسْكِينًا لُقْمَةً " وَمِمَّنْ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِالشَّيْءِ الْيَسِيرِ مِنْ مَالِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، وَالشَّعْبِيُّ، وَالنَّخَعِيُّ، وَالزُّهْرِيُّ، وَمَكْحُولٌ إِلَّا أَنَّ مَكْحُولًا عَلَّلَ بِأَنَّهُ يَتَحَلَّلُهُ.حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ذئب رحمہ اللہ، درہم سے بیان کرتے ہیں کہ میرے مالک نے مجھ پر ایک درہم روزینہ مقرر کیا، تو میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا: اللہ سے ڈر اور جو اللہ کا حق اور تیرے مالک کا حق تجھ پر ہے، اس کو ادا کر کیونکہ تو اپنے مال کا مالک نہیں اور نہ ہی اپنے خون کا، مگر یہ کہ تو اپنا ہاتھ رکھے یتیم پر یا تو مسکین کو لقمہ کھلائے۔
(ان میں سے جنہوں نے اس کے مال میں سے کچھ صدقہ کرنا جائز جانا ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں اور سعید بن جبیر، حسن بصری رحمہم اللہ وغیرہ ہیں)۔