حدیث نمبر: 7859
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيَّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى أَبِي اللَّحْمَ، قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا، ⦗٣٢٦⦘ فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَاهُ، فَقَالَ " لِمَ ضَرَبْتَهُ؟ " فَقَالَ: يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ، فَقَالَ " الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

یزید بن ابی عبید کہتے ہیں: میں نے عمیر رضی اللہ عنہ سے سنا جو ابو لحم کے غلام ہیں۔ انہوں نے کہا: میرے مالک نے مجھے حکم دیا کہ میں گوشت تیار کروں تو میرے پاس ایک مسکین آیا۔ میں نے اس میں سے اسے کھلایا۔ اس بات کا میرے مالک کو علم ہوا تو اس نے مجھے مارا تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو یہ بتایا۔ آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”تو نے اسے کیوں مارا ہے؟“ تو اس نے کہا کہ یہ میرا کھانا میری اجازت کے بغیر دے دیتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اجر تم دونوں کے درمیان ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7859
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»