حدیث نمبر: 7846
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَقَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُشَيْرِيُّ، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: وَأنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ، قَالُوا: ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ رَجُلٌ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ عَلَى زَانِيَةٍ، فَقَالَ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ، لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى غَنِيٍّ، فَقَالَ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ، لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى سَارِقٍ، فَقَالَ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ، وَعَلَى غَنِيٍّ، وَعَلَى سَارِقٍ، فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ قُبِلَتْ، أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا أَنْ تَسْتَعِفَّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا، وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللهُ، وَلَعَلَّ السَّارِقَ يَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ سَرِقَتِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک آدمی نے کہا کہ میں آج رات ضرور صدقہ کروں گا، چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور (نادانستہ طور پر) اسے ایک زانیہ کے ہاتھ میں دے دیا۔ صبح ہوئی تو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے، اس نے کہا: اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے، میرا صدقہ زانیہ پر ہوا؟ پھر اس نے کہا: میں آج رات ضرور صدقہ کروں گا، چنانچہ وہ صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک مالدار کے ہاتھ میں دے دیا، صبح ہوئی تو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک مالدار کو صدقہ دیا گیا ہے، اس نے کہا: اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے، میرا صدقہ مالدار پر ہوا؟ پھر اس نے کہا: میں آج رات ضرور صدقہ کروں گا، وہ صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک چور کے ہاتھ میں دے دیا۔ صبح ہوئی تو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات چور کو صدقہ کر دیا گیا ہے، اس نے کہا: اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے، میرا صدقہ زانیہ پر، مالدار پر اور چور پر ہوا؟ پھر اس کے پاس آنے والا آیا اور اس نے کہا: تمہارا صدقہ قبول کر لیا گیا ہے؛ جہاں تک زانیہ کا تعلق ہے تو ہو سکتا ہے وہ اس صدقے کی وجہ سے زنا سے باز آ جائے، اور جو مالدار ہے تو ہو سکتا ہے وہ اس سے عبرت حاصل کرے اور اس مال میں سے خرچ کرنے لگے جو اللہ نے اسے دیا ہے، اور جو چور ہے تو امید ہے کہ وہ اپنی چوری سے باز آ جائے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7846
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»