حدیث نمبر: 7823
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَذْهَبُ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأَجْرِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ، قَالَ: " أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ، إِنَّ كُلَّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلَّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلَّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلَّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي الْحَرَامِ، أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ؟ " قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " كَذَلِكَ إِذَا هُوَ وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ نے آپ ﷺ سے کہا: مال والے ہم سے اجر میں سبقت لے گئے ہیں کیونکہ جیسے ہم نمازیں پڑھتے ہیں وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں، جیسے ہم روزہ رکھتے ہیں وہ بھی روزے رکھتے ہیں اور وہ اپنے اضافی مال سے صدقہ کرتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اللہ نے تمہارے لیے نہیں بنایا جس کا تم صدقہ کرو، وہ یہ ہے کہ ہر تسبیح کہنا صدقہ ہے اور ہر تکبیر بھی صدقہ ہے، ہر تحلیل و تحمید صدقہ ہے اور نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور تم میں سے ایک کی شرمگاہ میں بھی صدقہ ہے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم میں سے کوئی اپنی شہوت کو پورا کرنے کے لیے آتا ہے تو کیا یہ صدقہ ہے اور اس کے لیے اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ اسے حرام جگہ میں رکھے تو کیا اس کے لیے گناہ نہیں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ایسے ہی حلال جگہ میں رکھے گا تو اس کے لیے اجر ہوگا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7823
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»