السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كراهية البخل والشح، والإقتار باب: بخل، شدید حرص (کنجوسی) اور خرچ میں تنگی کرنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، قَالَ: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَ: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلُ الْمُنْفِقِ وَالْبَخِيلِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ، أَوْ جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثَدْيَيْهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ أَنْ يُنْفِقَ سُبِغَتْ عَلَيْهِ الدِّرْعُ، أَوْ مَرَّتْ حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ، وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ عَلَيْهِ، وَلَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا حَتَّى أَخَذَتْ بِعُنُقِهِ، أَوْ بِتَرْقُوَتِهِ، فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَهِيَ لَا تَتَّسِعُ، فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَهِيَ لَا تَتَّسِعُ ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”خرچ کرنے والے اور بخیل کی مثال ایسے دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر لوہے کی قمیصیں یا جبے ہیں جو ان کی چھاتیوں سے گردن تک ہیں، سو جب وہ خرچ کرنے والا خرچ کرنا چاہتا ہے تو اس کی قمیص کشادہ ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے قدموں تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے قدموں کے نشان بھی مٹا دیتی ہے اور جب بخیل خرچ کرنا چاہتا ہے تو وہ اس پر سکڑ جاتی ہے اور ہر کڑی اپنی جگہ پر چمٹ جاتی ہے، یہاں تک کہ اسے گردن سے پکڑ لیتی ہے یا حلق سے، سو وہ اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتی۔ پھر وہ کوشش کرتا ہے مگر اسے کامیابی نہیں ہوتی۔“