السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد في المنيحة باب: منیحہ (عاریتاً دودھ پینے کے لیے جانور دینے) کے متعلق جو منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7800
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ ⦗٣١٠⦘ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى وَذَكَرَ خِصَالًا، وَقَالَ: " وَمَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً غَدَتْ بِصَدَقَةٍ، وَرَاحَتْ بِصَدَقَةٍ، صَبُوحُهَا وَغَبُوقُهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ عَنْ زَكَرِيَّا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے منع کیا اور ان خصائل کا تذکرہ کیا، پھر فرمایا: ”جس نے کوئی دودھ والا جانور (عاریتاً) دیا تو وہ صبح کو بھی صدقے کے ساتھ جاتا ہے اور شام کو بھی صدقے کے ساتھ لوٹتا ہے، اس کا صبح کا دودھ بھی اور شام کا دودھ بھی۔“