حدیث نمبر: 7779
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ يَسْبِقُ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ؟ قَالَ: " رَجُلٌ كَانَ لَهُ دِرْهَمَانِ فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا فَتَصَدَّقَ بِهِ، وَآخَرُ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ فَأَخَذَ مِنْ عَرْضِهَا مِائَةَ أَلْفٍ " يَعْنِي فَتَصَدَّقَ بِهَا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک درہم ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایک درہم ایک لاکھ درہم سے کیسے سبقت لے گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک آدمی کے پاس صرف دو درہم تھے، اس نے ان میں سے ایک درہم کا صدقہ کر دیا، جبکہ دوسرا وہ شخص تھا جس کے پاس بہت زیادہ مال تھا، اس نے اپنے کثیر مال میں سے ایک لاکھ درہم لیے اور انہیں صدقہ کر دیا (تو پہلا شخص سبقت لے گیا)۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7779
درجۂ حدیث محدثین: منكر الاسنا د
تخریج حدیث «منكر الاسنا د۔ اخرجه النسائي»