السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما يستدل به على أن قوله صلى الله عليه وسلم: " خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى " وقوله حين سئل عن أفضل الصدقة: " جهد من مقل " إنما يختلف باختلاف أحوال الناس في الصبر على الشدة والفاقة والاكتفاء بأقل الكفاية، وبالله التوفيق باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی حالت میں ہو“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السِّمَرِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ بِمِثْلِ الْبَيْضَةِ مِنْ ذَهَبٍ أَصَابَهَا فِي بَعْضِ الْمَغَازِي، أَوْ قَالَ: الْمَعَادِنُ، فَجَاءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، خُذْهَا مَنِّي صَدَقَةً، وَاللهِ مَا لِي مَالٌ غَيْرُهَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا عَنْ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: " هَاتِهَا "، فَحَذَفَهُ حَذْفَةً لَوْ أَصَابَتْهُ لَأَوْجَعَتْهُ أَوْ عَقَرَتْهُ، ثُمَّ قَالَ: " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَأْتِي بِمَالِهِ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ ثُمَّ يَقْعُدُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَكَفَّفُ النَّاسَ، إِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، خُذِ الَّذِي لَكَ، لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ "، فَأَخَذَ الرَّجُلُ مَالَهُ فَذَهَبَ، وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: أَصَبْتُ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ ایک آدمی انڈے کے برابر سونا لے کر آیا کسی غزوہ یا کان سے، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دائیں جانب سے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھ سے وصول کر لیں یا مجھ سے اس کی زکوٰۃ وصول کر لیں۔ اللہ کی قسم! اس کے علاوہ میرے پاس کوئی مال نہیں، تو آپ ﷺ نے اس سے منہ موڑ لیا، پھر وہ آپ ﷺ کے بائیں جانب سے آیا اور ویسے ہی کہا، پھر وہ آپ ﷺ کے سامنے سے آیا اور ایسے ہی کہا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لاؤ“ اور اسے پھینک دیا، اگر اسے لگ جاتا تو وہ اسے زخمی کر دیتا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک مال لاتا ہے صدقہ کرنے کے لیے اور بعد میں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بیٹھ جاتا ہے۔ بیشک صدقہ وہ ہوتا ہے جو مال داری کے بعد ہو، اس کو پکڑ یہ تیرا ہے، ہمیں کوئی اس کی حاجت نہیں۔“ تو اس نے اپنا مال پکڑا اور چلا گیا۔
(حماد بن سلمہ، محمد بن اسحاق سے اس حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ یہ میں نے کان سے لیا ہے)۔