حدیث نمبر: 7763
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: " أُمُّكَ " قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أُمُّكَ " قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أُمُّكَ؟ قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ ".
حافظ ثناء اللہ

بہز بن حکیم رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون نیکی کا زیادہ مستحق ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”تیری ماں!“ میں نے کہا: پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں!“ میں نے کہا: پھر کون؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تیرا والد، پھر اس کے بعد قریبی رشتہ دار، پھر اس کے بعد رشتہ دار۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7763
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد»