السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الاختيار في صدقة التطوع باب: نفلی صدقے کے حوالے سے اختیار کا بیان۔
حدیث نمبر: 7761
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَنِي أَبِي سَلَمَةَ فِي حَجْرِي، وَلَيْسَ لَهُمْ شَيْءٌ إِلَّا مَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ، وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ كَذَا وَكَذَا، فَلِي أَجْرٌ إِنْ أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ لَكِ أَجْرَ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.حافظ ثناء اللہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے میری پرورش میں ہیں اور ان کے لیے کچھ بھی نہیں مگر جو میں ان پر خرچ کرتی ہوں اور میں انہیں اس اس وجہ سے چھوڑ بھی نہیں سکتی۔ اگر میں ان پر خرچ کروں تو کیا مجھے اس کا کوئی اجر ہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو تو ان پر خرچ کرے گی یقیناً تجھے اجر ملے گا۔“