السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الاختيار في صدقة التطوع باب: نفلی صدقے کے حوالے سے اختیار کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، حدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسٌ الْإِسْفَاطِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، ثنا ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ مَرَّ عَلَيْهِ وَهُوَ يُسَاوِمُ بِمَرْطٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ وَأَتَصَدَّقَ بِهِ، فَاشْتَرَاهُ فَدَفَعَهُ إِلَى أَهْلِهِ وَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ فَهُوَ صَدَقَةٌ " فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ؟ فَأَتَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَامَ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ فَقَالَتْ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ عَمْرٌو، قَالَتْ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ فَهُوَ صَدَقَةٌ " قَالَتْ: نَعَمْ. ⦗٢٩٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ، وَحَدِيثُ أَبِي دَاوُدَ أَتَمُّ، ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ حمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَيُقَالُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ.سیدنا عبداللہ بن عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو وہ رسیاں بٹ رہے تھے۔ انہوں نے کہا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ اسے بیچ کر صدقہ کروں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خرید لیں اور وہ انہوں نے اہل کو دے دیں اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم ان کو دو گے وہ بھی صدقہ ہے“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تیرا اس بات پر گواہ کون ہے؟“ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور دروازے کے پیچھے کھڑے ہو گئے تو سیدہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ”کون ہے؟“ انہوں نے کہا: ”عمرو ہے۔“ کہنے لگیں: ”تجھے کون سی چیز لائی ہے؟“ تو وہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم ان کو دو وہ صدقہ ہے“، تو وہ کہنے لگیں: ”ہاں! آپ ﷺ نے یوں ہی فرمایا ہے۔“
انس بن عیاض کی حدیث سے ابو داؤد کی حدیث زیادہ مفصل و صحیح ہے۔