السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الاختيار في صدقة التطوع باب: نفلی صدقے کے حوالے سے اختیار کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: ⦗٢٩٨⦘ أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةٍ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ؟ " فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي " فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَجَاءَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ فَهَكَذَا وَهَكَذَا يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو عذرہ میں سے ایک شخص نے مدبر غلام آزاد کیا تو یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ بھی تیرا مال ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے اس غلام کو کون خریدے گا؟“ تو سیدنا نعیم بن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا تو آپ ﷺ نے وہ لا کر اسے دے دیے۔ پھر فرمایا: ”اپنی ذات پر خرچ کرنے سے (صدقہ) شروع کرو اور جو اس سے بچ رہے وہ تیرے اہل کے لیے ہے، اگر تیرے اہل سے بچ جائے تو تیرے قرابت داروں کے لیے ہے۔ اگر قرابت داروں سے بچ رہے تو پھر ایسے ایسے ہے“ یعنی پھر اپنے سامنے والوں، دائیں اور بائیں والوں کو دے۔