حدیث نمبر: 7752
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامِ بْنِ خُوَيْلِدٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يعُولُ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَمَنْ يسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللهُ وَمَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللهُ "..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا حکیم بن حزام بن خویلد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور چاہیے کہ تم میں سے ایک اس کی ابتدا گھر والوں سے کرے اور بہتر صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی انسان غنی ہو اور جو کوئی سوال سے بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچا لیتا ہے اور جو کوئی لوگوں سے بے پروا ہونا چاہتا ہے اللہ اسے بے پروا کر دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7752
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»