السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الاختيار في صدقة التطوع باب: نفلی صدقے کے حوالے سے اختیار کا بیان۔
حدیث نمبر: 7750
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ، حدَّثَتْهُ جَدَّتُهُ وَهِيَ أُمُّ بُجَيْدٍ، وَكَانَتْ مِمَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، ⦗٢٩٧⦘ وَاللهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ لَمْ تَجِدِي شَيْئًا تُعْطِيهِ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ "، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن حارثہ اپنی دادی ام بجید رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں اور یہ ان میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی، فرماتی ہیں: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے مگر میں اسے دینے کے لیے کچھ بھی نہیں پاتی، تو اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو کچھ بھی نہیں پاتی تو اسے جلی ہوئی کھری دے کر واپس لوٹا دے۔“