السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الاختيار في أن يؤثر بزكاة فطره وزكاة ماله ذوي رحمه إذا كانوا من أهلها ممن لا تلزمه نفقته. باب: اس اختیار کا بیان کہ آدمی اپنی زکوٰۃ الفطر اور مال کی زکوٰۃ میں اپنے ان رشتہ داروں کو ترجیح دے جو اس کے مستحق ہوں، اور جن کا نفقہ اس کے ذمے لازم نہ ہو۔
حدیث نمبر: 7735
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، رَفَعَهُ قَالَ: " الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے اور غریب رشتہ دار پر صدقہ کرنا دو صدقے ہیں: ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔“