السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما يجوز إخراجه لأهل البادية في زكاة الفطر من الأقط وغيره. باب: دیہات والوں کے لیے پنیر اور اس کے علاوہ دیگر اشیاء میں سے جس چیز کا زکوٰۃ الفطر میں نکالنا جائز ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 7731
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ قَالَ: وَكَتَبَ إِلَى كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ يُخْبِرُ، عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رِجَالٌ مِنَ أَهْلِ الْبَادِيَةِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا أُولُو أَمْوَالٍ فَهَلْ يَجُوزُ عَنَّا مِنْ زَكَاةِ الْفِطْرِ؟ قَالَ: " لَا فَأَدُّوهَا عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم مال مویشی والے ہیں، کیا ہم سے صدقہ فطر معاف کردیں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، تم ہر چھوٹے بڑے، مذکر و مؤنث اور غلام و آزاد کی طرف سے ادا کرو؛ کھجور، منقیٰ، جو یا پنیر کا ایک صاع۔“