السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: إخراج زكاة الفطر عن نفسه وغيره ممن تلزمه مؤنته من أولاده وآبائه وأمهاته ورقيقه الذين اشتراهم للتجارة أو لغيرها وزوجاته باب: اپنی طرف سے اور ان لوگوں کی طرف سے زکوٰۃ الفطر ادا کرنا جن کا نفقہ اس کے ذمے لازم ہے، یعنی اس کی اولاد، اس کے آباؤ اجداد، اس کی مائیں، اس کے وہ غلام جو اس نے تجارت یا دیگر مقاصد کے لیے خریدے ہوں، اور اس کی بیویاں۔
حدیث نمبر: 7681
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ يُؤَدِّي زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ مَمْلُوكٍ لَهُ فِي أَرْضِهِ وَغَيْرِ أَرْضِهِ وَعَنْ كُلِّ إِنْسَانٍ كَانَ يَعُولُهُ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، وَعَنْ رَقِيقِ امْرَأَتِهِ.حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ، نافع رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر ہر اس غلام کی طرف سے ادا کرتے تھے جو ان کی زمین میں تھا یا اس کے علاوہ، اور ہر اس شخص کی طرف سے جو ان کی سرپرستی میں ہوتا، چھوٹا ہوتا یا بڑا، اور بیوی کے غلاموں کی طرف سے بھی ادا فرماتے۔