السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: إخراج زكاة الفطر عن نفسه وغيره ممن تلزمه مؤنته من أولاده وآبائه وأمهاته ورقيقه الذين اشتراهم للتجارة أو لغيرها وزوجاته باب: اپنی طرف سے اور ان لوگوں کی طرف سے زکوٰۃ الفطر ادا کرنا جن کا نفقہ اس کے ذمے لازم ہے، یعنی اس کی اولاد، اس کے آباؤ اجداد، اس کی مائیں، اس کے وہ غلام جو اس نے تجارت یا دیگر مقاصد کے لیے خریدے ہوں، اور اس کی بیویاں۔
حدیث نمبر: 7679
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: صَدَقَةُ الْفِطْرِ لَمْ يَشُكَّ، وَقَالَ: مِنَ التَّمْرِ عَامًا، وَزَادَ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ يُعْطِيهَا إِذَا قَعَدَ الَّذِينَ يَقْبَلُونَهَا، وَكَانُوا يَقْعُدُونَ قَبْلَ الْفِطْرِ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَارِمٍ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ، فَقَالَ: عَلَى الْحُرِّ وَالْعَبْدِ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعٍ.حافظ ثناء اللہ
ابو ربیع رحمہ اللہ، حماد رحمہ اللہ سے یہی حدیث اسی سند کے ساتھ نقل فرماتے ہیں، مگر انہوں نے بغیر کسی شک کے ”صدقہ فطر“ کہا، اور یہ کہا کہ ”ایک سال کھجور سے“، اور یہ اضافہ بھی کیا کہ عبداللہ اسے اس وقت دیا کرتے تھے جب اسے وصول کرنے والے بیٹھ جاتے، اور وہ عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے بیٹھا کرتے تھے۔