السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من قال: زكاة الفطر فريضة باب: ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”زکوٰۃ الفطر فرض ہے“۔
حدیث نمبر: 7671
وَأَمَّا الَّذِي رُوِيَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ فِي ذَلِكَ: فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ، فَقَالَ: " أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّكَاةُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا لَا يَدُلُّ عَلَى سُقُوطِ فَرْضِهَا؛ لِأَنَّ نُزُولَ فَرْضٍ لَا يُوجِبُ سُقُوطَ آخَرَ وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى وُجُوبِ زَكَاةِ الْفِطْرِ وَإِنِ اخْتَلَفُوا فِي تَسْمِيَتِهَا فَرْضًا فَلَا يَجُوزُ تَرْكُهَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
ابو عمار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے صدقہ فطر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ کی فرضیت نازل ہونے سے پہلے حکم دیا، جب زکاۃ کی فرضیت نازل ہوئی تو پھر نہ آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا اور نہ ہی منع کیا لیکن ہم دیا کرتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ فرض کے ساقط ہونے پر دال نہیں، کیونکہ ایک فرض کا نازل ہونا دوسرے فرض کے ساقط ہونے کو واجب نہیں کرتا اور اہل علم نے صدقہ فطر کے وجوب پر اجماع کیا ہے، اگرچہ اسے فرض کہنے میں اختلاف کیا ہے مگر اس کا ترک کرنا جائز نہیں۔