السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: غلول الصدقة. باب: زکوٰۃ کے مال میں خیانت کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ: " يَا أَبَا الْوَلِيدِ اتَّقِ لَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ تَحْمِلُهُ لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ لَهَا ثُؤَاجٌ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ ذَلِكَ لَكَائِنٌ، قَالَ: " أَيْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ ذَلِكَ لَكَذَلِكَ إِلَّا مَنْ رَحِمَ اللهُ " قَالَ: فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَعْمَلُ عَلَى شَيْءٍ أَبَدًا أَوْ قَالَ: عَلَى اثْنَيْنِ.سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو فرمایا: ”اے ابو الولید! قیامت کے دن اللہ سے ڈرتے رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس حال میں آؤ کہ تم نے اونٹ اٹھایا ہوا ہو اور وہ بلبلا رہا ہو، یا گائے ہو کہ وہ آواز نکال رہی ہو، یا بکری ہو کہ وہ منمنا رہی ہو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ واقعی ہونے والا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! بیشک ایسا ہی ہو گا، مگر جس پر اللہ رحم فرمائے۔“ انہوں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں ایسا کوئی عمل ہرگز نہیں کروں گا۔