السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ترك التعدي على الناس في الصدقة باب: زکوٰۃ کی وصولی میں لوگوں پر زیادتی ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 7661
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ، مِنَ أَشْجَعَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَأْتِيهِمْ مُصَدِّقًا فَيَقُولُ: لِرَبِّ الْمَالِ: " أَخْرِجْ إِلَيَّ صَدَقَةَ مَالِكَ " فَلَا يَقُودُ إِلَيْهِ شَاةً فِيهَا وَفَاءٌ مِنْ حَقِّهِ إِلَّا قَبِلَهَا.حافظ ثناء اللہ
محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ مجھے اشجع قبیلے کے دو آدمیوں نے خبر دی کہ محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس مصدق بن کر آئے تھے، تو وہ صاحبِ مال سے کہتے: تو اپنے مال کی زکاۃ مجھے دے، تو وہ ان کے پاس وہی لاتے تھے جو دینے کے لائق ہوتی تو وہ قبول کر لیتے۔