السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ترك التعدي على الناس في الصدقة باب: زکوٰۃ کی وصولی میں لوگوں پر زیادتی ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 7660
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: مُرَّ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغَنَمٍ مِنَ الصَّدَقَةِ فَرَأَى فِيهَا شَاةً حَافِلًا ذَاتَ ضَرْعٍ عَظِيمٍ، فَقَالَ عُمَرُ: " مَا هَذِهِ الشَّاةُ؟ " فَقَالُوا: شَاةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ عُمَرُ: " مَا أَعْطَى هَذِهِ أَهْلُهَا وَهُمْ طَائِعُونَ لَا تَفْتِنُوا النَّاسَ لَا تَأْخُذُوا حَرَزَاتِ الْمُسْلِمِينَ نَكِّبُوا عَنِ الطَّعَامِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے صدقے کی بکریاں گزاری گئیں تو انہوں نے ایک بڑے تھنوں والی حاملہ بکری دیکھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ”یہ بکری کیسی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”یہ زکاۃ کی بکری ہے“، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مالکوں نے خوشی سے نہیں دی ہوگی، اس لیے تم لوگوں کو فتنے میں مبتلا نہ کرو، تم مسلمانوں کی حفاظت کرنے والے جانور نہ لو کہ وہ کھانے پینے سے عاجز آجائیں۔“