حدیث نمبر: 7655
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ فِي خَرِبَةٍ فِي السَّوَادِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَمَا لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا قَضَاءً بَيِّنًا إِنْ كُنْتَ وَجَدْتَهَا فِي قَرْيَةٍ تُؤَدِّي خَرَاجَهَا قَرْيَةٌ أُخْرَى فَهِيَ لِأَهْلِ تِلْكَ الْقَرْيَةِ، وَإِنْ كُنْتَ وَجَدْتَهَا فِي قَرْيَةٍ لَيْسَ تُؤَدِّي خَرَاجَهَا قَرْيَةٌ أُخْرَى فَلَكَ أَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهِ وَلَنَا الْخُمُسُ ثُمَّ الْخُمُسُ لَكَ ". ⦗٢٦٤⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ رَوَوْا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ أَنَّهُ قَالَ: أَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهِ لَكَ وَاقْسِمِ الْخُمُسَ فِي فُقَرَاءِ أَهْلِكَ. هَذَا الْحَدِيثُ أَشْبَهُ بِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ.
حافظ ثناء اللہ

شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے ایک ویرانے سے پندرہ سو درہم ملے ہیں! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس میں واضح فیصلہ کروں گا، اگر تو نے ایسی بستی میں پایا ہے جس کا ٹیکس دوسری بستی ادا کرتی ہے تو یہ ان کے لیے ہے اور اگر ایسی جگہ سے ملا ہے جس کا خراج کوئی بستی ادا نہیں کرتی تو تمہارے لیے اس کے چار حصے ہیں اور ہمارے لیے پانچواں، پھر پانچوں بھی تمہارے لیے ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7655