قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ أَنَّهُ قَالَ: " يُزَكِّي الرَّجُلُ مَالَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ مِثْلُهُ؛ لَأَنَّهُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَيَنْكِحُ فِيهِ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَالظَّوَاهِرُ الَّتِي وَرَدَتْ بِإِيجَابِ الزَّكَاةِ فِي الْأَمْوَالِ تَشْهَدُ لِهَذَا الْقَوْلِ بِالصِّحَّةِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ فِي الْجَدِيدِ وَكَانَ يَقُولُ: حَدِيثُ عُثْمَانَ يُشْبِهُ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمَرَ بِقَضَاءِ الدَّيْنِ قَبْلَ حُلُولِ الصَّدَقَةِ فِي الْمَالِ، وَقَوْلُهُ هَذَا شَهْرُ زَكَاتِكُمْ يَجُوزُ أَنْ يَقُولَ: هَذَا الشَّهْرُ الَّذِي إِذَا مَضَى حَلَّتْ زَكَاتُكُمْ كَمَا يُقَالُ شَهْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَإِنَّمَا الْحِجَّةُ بَعْدَ مُضَيِّ أَيَّامٍ مِنْهُ. أَخْبَرَنَا بِهَذَا الْكَلَامِ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ.حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے مال کی زکاۃ ادا کرے، اگرچہ اس کے برابر اس پر قرض ہو، کیونکہ وہ اسی سے کھاتا اور نکاح کرتا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ ظاہری دلائل جو اموال کی زکاۃ کے وجوب میں آئے ہیں، وہ اس قول کی صحت کی گواہی دیتے ہیں اور یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا نیا قول ہے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حدیث اس کے مشابہ ہے اور انہوں نے مال میں زکاۃ کے وجوب سے پہلے قرضے کی ادائیگی کا حکم دیا، فرمایا: ”یہ تمہاری زکاۃ کا مہینہ ہے“، جائز ہے کہ وہ فرماتے: جب یہ مہینہ گزر جائے گا تو زکاۃ حلال ہوجائے گی، جس طرح کہا جاتا ہے ذوالحجہ کا مہینہ، حالانکہ حج اس کے چند ایام گزرنے کے بعد ہوتا ہے، اس کی خبر ہمیں ابو سعید رحمہ اللہ نے دی ہے۔