السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما لا زكاة فيه مما أخذ من البحر من عنبر وغيره. باب: سمندر سے نکالی جانے والی ان اشیاء کا بیان جن میں کوئی زکوٰۃ نہیں، جیسے عنبر اور اس کے علاوہ دیگر اشیاء۔
حدیث نمبر: 7595
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْعَنْبَرِ أَفِيهِ زَكَاةٌ؟ فَقَالَ: " إِنْ كَانَ فِيهِ شَيْءٌ فَفِيهِ الْخُمُسُ ". لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ شَيْبَانَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْعَنْبَرِ أَفِيهِ ⦗٢٤٧⦘ زَكَاةٌ؟ ثُمَّ ذَكَرَ الْبَاقِيَ فَابْنُ عَبَّاسٍ عَلَّقَ الْقَوْلَ فِيهِ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَقَطَعَ بِأَنْ لَا زَكَاةَ فِيهِ فِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى فَالْقَطْعُ أَوْلَى وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
ابن طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عنبر کے بارے میں پوچھا گیا: کیا اس میں زکاۃ ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اگر اس میں کچھ واجب ہے تو اس میں خمس ہے۔
یہ الفاظ امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث کے ہیں، ابن شیبان کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عنبر کے بارے میں پوچھا گیا: کیا اس میں زکاۃ ہے؟ پھر باقی روایت ذکر کی۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس روایت میں اپنی بات کو شرط کے ساتھ مشروط رکھا ہے اور پہلی روایت میں قطعی طور پر فرمایا ہے کہ اس میں زکاۃ نہیں ہے، اور قطعی بات زیادہ اولیٰ ہے۔