السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الانتضاح بعد الوضوء لرد الوسواس باب: وسوسہ دور کرنے کے لیے وضو کے بعد پانی چھڑکنے کا بیان
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ الْحَكَمُ أَوْ أَبُو الْحَكَمِ، مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَانْتَضَحَ بِهَا ". ⦗٢٥٠⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وَهَيْبٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ مُسْنَدًا وَلَمْ يَذْكُرُوا أَبَاهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: الصَّحِيحُ مَا رَوَى شُعْبَةُ، وَوُهَيْبٌ، وَقَالَا: عَنْ أَبِيهِ وَرُبَّمَا قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ فَمَرَّةً ذَكَرَ فِيهِ أَبَاهُ، وَمَرَّةً لَمْ يَذْكُرْهُ.(الف) مجاہد رحمہ اللہ بنو ثقیف کے ایک حکم یا ابو الحکم نامی شخص سے روایت کرتے ہیں جو اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ ”آپ ﷺ نے پانی کا ایک چلو لیا اور چھینٹے مارے۔“
(ب) مجاہد حکم یا ابوالحکم بن سفیان ثقفی سے مسند کے ساتھ نقل فرماتے ہیں، لیکن یہاں انہوں نے ان کے والد کا ذکر نہیں کیا۔
(ج) مجاہد حکم بن سفیان سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ان کے والد کا نام ذکر نہیں کیا۔
(د) امام ابو عیسیٰ (ترمذی) نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”شعبہ اور وہیب «عَنْ أَبِيهِ» ”اپنے والد سے“ والی روایت صحیح ہے۔“ ابن عیینہ بھی اس حدیث میں «عَنْ أَبِيهِ» ”اپنے والد سے“ بیان کرتے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ابن عیینہ منصور سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے اس میں ان کے والد کا ذکر کیا اور دوسری مرتبہ ذکر نہیں کیا۔“