السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الصدقة فيما يزرعه الآدميون وييبس ويدخر ويقتات دون ما تنبته الأرض من الخضر. باب: زکوٰۃ صرف اس پیداوار میں واجب ہے جسے انسان خود کاشت کرتے ہیں، جو خشک کی جاتی ہے، ذخیرہ کی جاتی ہے اور بطور خوراک استعمال ہوتی ہے، نہ کہ زمین کی اگائی ہوئی ان سبزیوں میں جو ان صفات سے خالی ہوں۔
حدیث نمبر: 7477
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمَذَانَ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ⦗٢١٧⦘ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْبَعْلُ وَالسَّيْلُ الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ، وَإِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ فِي التَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالْحُبُوبِ، فَأَمَّا الْقِثَّاءُ وَالْبِطِّيخُ وَالرُّمَّانُ وَالْقَضْبُ فَقَدْ عَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس (زمین) میں جسے آسمان پلاتا ہے یا وہ بارانی اور سیلاب والی زمینوں کی پیداوار ہے تو اس میں عشر ہے اور جن کو کھینچ کر پلایا جائے ان میں نصف عشر ہے اور یہ کھجور، گندم اور غلہ میں سے ہوتا ہے لیکن جو ککڑیاں، تربوز، انار اور سبزیاں ہیں ان سے رسول اللہ ﷺ نے معاف کر دیا۔“