السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الصدقة فيما يزرعه الآدميون وييبس ويدخر ويقتات دون ما تنبته الأرض من الخضر. باب: زکوٰۃ صرف اس پیداوار میں واجب ہے جسے انسان خود کاشت کرتے ہیں، جو خشک کی جاتی ہے، ذخیرہ کی جاتی ہے اور بطور خوراک استعمال ہوتی ہے، نہ کہ زمین کی اگائی ہوئی ان سبزیوں میں جو ان صفات سے خالی ہوں۔
حدیث نمبر: 7476
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: أَرَادَ مُوسَى بْنُ الْمُغِيرَةِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ خُضَرِ أَرْضِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ فَقَالَ لَهُ مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ: " إِنَّهُ لَيْسَ فِي الْخُضَرِ شَيْءٌ " وَرَوَاهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَكَتَبُوا بِذَلِكَ إِلَى الْحَجَّاجِ فَكَتَبَ الْحَجَّاجُ أَنَّ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ أَعْلَمُ مِنْ مُوسَى بْنِ الْمُغِيرَةِ.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ موسیٰ بن مغیرہ نے موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ کی زمین سے سبزیوں کی زکوٰۃ (عشر) لینا چاہی تو انہوں نے کہا کہ ”سبزیوں میں کوئی عشر نہیں۔“ انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے نقل فرمائی اور حجاج کو لکھ بھیجی تو حجاج نے لکھ بھیجا کہ موسیٰ بن طلحہ موسیٰ بن مغیرہ سے زیادہ جانتے ہیں۔