السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الصدقة فيما يزرعه الآدميون وييبس ويدخر ويقتات دون ما تنبته الأرض من الخضر. باب: زکوٰۃ صرف اس پیداوار میں واجب ہے جسے انسان خود کاشت کرتے ہیں، جو خشک کی جاتی ہے، ذخیرہ کی جاتی ہے اور بطور خوراک استعمال ہوتی ہے، نہ کہ زمین کی اگائی ہوئی ان سبزیوں میں جو ان صفات سے خالی ہوں۔
حدیث نمبر: 7474
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنَّهُ إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ..حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وہ تحریر تھی جو رسول اللہ ﷺ نے انہیں دی تھی کہ ”وہ گندم، جو، منقہ اور کھجور سے زکاۃ وصول کریں۔“