السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
جماع أبواب صدقة الزرع -- باب: لا شيء في الثمار والحبوب حتى يبلغ كل صنف منها خمسة أوسق فيكون فيما بلغ منه خمسة أوسق صدقة باب: کھیتی کی زکوٰۃ کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: پھلوں اور غلوں میں اس وقت تک کوئی زکوٰۃ نہیں جب تک کہ ان میں سے ہر قسم پانچ وسق کو نہ پہنچ جائے، پس جو پیداوار پانچ وسق تک پہنچ جائے تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔
حدیث نمبر: 7472
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ ⦗٢١٦⦘ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ زَكَاةٌ فِي كَرْمِهِ وَلَا فِي زَرْعِهِ إِذَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان آدمی کے انگوروں اور غلے میں زکوٰۃ نہیں جب تک وہ پانچ وسق (20 من) سے کم ہو۔“