السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد في العسل باب: شہد کی زکوٰۃ کے متعلق جو منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: جَاءَ كِتَابٌ مِنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي وَهُوَ بِمِنًى أَنْ " لَا تَأْخُذْ مِنَ الْخَيْلِ وَلَا مِنَ الْعَسَلِ صَدَقَةً " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَسَعْدُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ يَحْكِي مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْمُرْهُ بِأَخْذِ الصَّدَقَةِ مِنَ الْعَسَلِ وَأنَّهُ شَيْءٌ رَآهُ فَتَطَوَّعَ لَهُ بِهِ أَهْلُهُ. قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ: الْحَدِيثُ فِي أَنَّ فِي الْعَسَلِ الْعُشْرَ ضَعِيفٌ وَفِي أَنْ لَا يُؤْخَذَ مِنْهُ الْعُشْرُ ضَعِيفٌ، إِلَّا عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَاخْتِيَارِي أنَّهُ لَا يُؤْخَذُ مِنْهُ لِأَنَّ السُّنَنَ وَالْآثَارَ ثَابِتَةٌ فِيمَا يُؤْخَذُ مِنْهُ وَلَيْسَتْ فِيهِ ثَابِتَةٌ فَكَأنَّهُ عَفْوٌ.حضرت مالک رحمہ اللہ، عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی طرف سے ایک تحریر میرے والد کے پاس آئی، اس وقت وہ منیٰ میں تھے کہ گھوڑے اور شہد سے زکاۃ نہ لی جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ کی روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شہد کی زکاۃ وصول کا حکم نہیں دیا، بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق سوچا گیا کہ اس میں زکاۃ ہونی چاہیے، پھر یہ اضافی لوگوں پر مقرر کی گئی ہے۔ زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ جس حدیث میں یہ ہے کہ ”شہد میں زکاۃ ہے“ وہ ضعیف ہے اور جس میں ہے کہ ”عشر نہ لیا جائے“ وہ بھی ضعیف ہے۔