السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد في العسل باب: شہد کی زکوٰۃ کے متعلق جو منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ: " قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمْتُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ " قَالَ: وَكَانَ سَعْدٌ مِنْ أَهْلِ السُّرَاةِ. قَالَ: " فَكَلَّمْتُ قَوْمِي فِي الْعَسَلِ، فَقُلْتُ: لَهُمْ زَكَاةٌ فَإِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي ثَمَرَةٍ لَا تُزَكَّى "، فَقَالُوا: كَمْ قَالَ؟ فَقُلْتُ: " الْعُشْرُ، فَأَخَذْتُ مِنْهُمُ الْعُشْرَ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا كَانَ قَالَ: فَقَبَضَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَاعَهُ ثُمَّ جَعَلَ ثَمَنَهُ فِي صَدَقَاتِ الْمُسْلِمِينَ ".سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اسلام قبول کر لیا، پھر میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری قوم کے جو لوگ اسلام لائے ان کے اموال کے بارے میں لکھ دیں“ تو آپ ﷺ نے لکھ دیا اور اسے اس پر عامل مقرر کر دیا، پھر مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے عامل مقرر کیا اور سعد رضی اللہ عنہ سراۃ والوں میں سے تھے، فرماتے ہیں: وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی قوم سے شہد کے متعلق بات کی اور میں نے ان سے کہا کہ اس میں زکوۃ ہے۔ بیشک ان پھلوں میں کوئی بھلائی نہیں جن کی زکوۃ ادا نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا: کتنی زکوۃ ہے؟ تو میں نے کہا: ”دسواں حصہ“، پھر میں نے ان سے عشر وصول کیا اور میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس بات سے آگاہ کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے وہ لے لیا اور فروخت کر دیا، پھر اس کی قیمت مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کر دی۔