السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد في العسل باب: شہد کی زکوٰۃ کے متعلق جو منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7460
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: " جَاءَ هِلَالٌ أَحَدُ بَنِي مُتْعَانَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ وَسَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ سَلَبَةُ فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْوَادِيَ، فَلَمَّا تَوَلَّى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، ⦗٢١٣⦘ فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ أَدِّ إِلَيْكَ مَا كَانَ يُؤَدَّى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُشُورِ نَحْلِهِ فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ وَإِلَّا فَإِنَّمَا هُوَ ذُبَابُ غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ شَاءَ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ متعان کے بیٹوں میں سے ہلال رسول اللہ ﷺ کے پاس شہد کا عشر لے کر آیا اور عرض کیا: یہ وادی میرے حوالے کر دی جائے جسے سلبۃ کہا جاتا ہے، تو آپ ﷺ نے اس کے حوالے کر دی۔ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو سفیان بن وہب رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر پوچھا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”اگر وہ تمہیں وہ ادا کرے جو وہ رسول اللہ ﷺ کو اپنی شہد کی مکھیوں کے عشر میں سے ادا کیا کرتا تھا تو سلبہ (وادی) اس کے لیے مخصوص کر دو، ورنہ یہ تو بارش کی مکھیاں ہیں، جو چاہے ان (کا شہد) کھائے۔“