السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد في العسل باب: شہد کی زکوٰۃ کے متعلق جو منقول ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتُعِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّ لِي نَحْلًا. قَالَ: " أَدِّ الْعُشْرَ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: احْمِ لِي جَبَلَهَا فَحَمَاهُ لِي وَهَذَا أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي وُجُوبِ الْعُشْرِ فِيهِ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى لَمْ يُدْرِكْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ فِي زَكَاةِ الْعَسَلِ شَيْءٌ يَصِحُّ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ يَعْنِي بِذَلِكَ تَضْعِيفَ رِوَايَتِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا فِي الْعَسَلِ.سیدنا ابو سیارہ متعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا عشر ادا کر۔“ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کا پہاڑ میرے لیے مخصوص کر دیں، تو آپ ﷺ نے وہ اس کے لیے مخصوص کر دیا۔
اس (شہد) میں عشر کے وجوب کے بارے میں جو کچھ مروی ہے اس میں یہ سب سے صحیح ہے، اور یہ منقطع ہے۔ ابو عیسیٰ ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ مرسل حدیث ہے، سلیمان بن موسیٰ نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے کسی کو نہیں پایا، اور شہد کی زکاۃ کے بارے میں کوئی چیز صحیح ثابت نہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن محرر متروک الحدیث ہیں، اس سے ان کی مراد اس کی وہ روایت ضعیف قرار دینا ہے جو وہ زہری سے، وہ ابو سلمہ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے شہد کے بارے میں مرفوعاً بیان کرتا ہے۔