حدیث نمبر: 7458
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتُعِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّ لِي نَحْلًا. قَالَ: " أَدِّ الْعُشْرَ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: احْمِ لِي جَبَلَهَا فَحَمَاهُ لِي وَهَذَا أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي وُجُوبِ الْعُشْرِ فِيهِ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى لَمْ يُدْرِكْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ فِي زَكَاةِ الْعَسَلِ شَيْءٌ يَصِحُّ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ يَعْنِي بِذَلِكَ تَضْعِيفَ رِوَايَتِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا فِي الْعَسَلِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو سیارہ متعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس شہد ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا عشر ادا کر۔“ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس پہاڑ کو میرے حوالے کر دیں، تو آپ ﷺ نے وہ اس کے حوالے کر دیا۔
سلیمان بن موسیٰ کی صحابہ میں سے کسی سے ملاقات نہیں اور شہد میں کوئی زکاۃ نہیں، یہ بات درست ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن محرر متروک الحدیث ہیں اور اس کی روایت میں ضعف ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7458
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابن ماجه»